لطیفہ یا
پہیلی
سن کر
سمجھنااور
لطف اندوز
ہونا |
عنوان |
|||||
|
|
|||||
اول |
کلاس |
اردو |
مضمون |
40 منٹ |
دورانیہ |
|
حاصلات
تعلیم |
||||
لطیفہ یا
پہیلی سن کر
لطف اندوز
ہوسکیں، نیزلطیفہ
یا پہیلی سن
کر سمجھ سکیں |
||||
مواد |
||||
نصابی
کتاب،فلیش کارڈز،تختہَ
تحریر،
مارکر،ڈسٹر۔ |
||||
معلومات
برائے
اساتذہ |
||||
طلبہ کی
ذہنی صلاحیتوں
میں نکھارپیدا
کرنے کی لیےذیل
میں دیےگئے
نکات اساتذہ
کے لئے معاون
و مددگار
ثابت ہوں گے۔ • پہیلیوں
اور لطائف کے
ذریعے طلبہ کی
سننے،
سمجھنے اور
بولنے کی
صلاحیتوں میں
اضافہ ہوتا
ہےبلکہ خود
سےپڑھنے کا
شوق بھی پیدا
ہوتا ہے
اس
لیےطلبہ کو
بولنے
اورسوچ بچار
کے مواقع
فراہم کیےجائیں
تاکہ طلبہ
اپنے خیالات و جذبات
کا اظہار بغیر
کسی جھجک کے
کر سکیں۔ • بچوں
کو پہیلیاں
اور لطائف
زبانی یاد
کروائے جائیں
تا کہ ان کی
تفہیمی
مہارت میں
بھی
اضافہ ہو
سکے۔ |
||||
تعارف |
||||
بچوں سے
پوچھا جائے
کہ • کیا آپ نے
کبھی کسی ایسے
سوال کا جواب
دیا ہے جس میں
اشاروں کے ذریعے
جواب کے بارے
میں بتایا گیا
ہو؟ • اگر
کوئی ہمیں دل
چسپ بات
سنائے تو کیا
ہمیں خوشی حاصل
ہوتی ہے؟ بچوں کے
جوابات کے
متعلق بات چیت
کرتے ہوئے
انھیں بتائیں
کہ آج ہم ایسی
ہی دل چسپ باتوں
اور سوالات کے بارے
میں پڑھیں گے۔ |
||||
سبق کا
بتدریج
ارتقاء |
||||
اساتذہ بچوں
کو بتائیں کہ
لطیفہ کا
مطلب ایسی
چھوٹی سی بات
ہوتا ہے جسے
سن کر لطف
حاصل ہو۔
اساتذہ لطائف
کے تصور کو مزید
واضح کرنےکے
لئے طلبہ کو
کوئی لطیفہ
سنائیں ۔ جیسے
کہ ماں(
بچے سے ) گڈو ! میں
نے پلیٹ میں کیک
رکھا
تھا،کہاں گیا
؟ گڈو: مما !
مجھے ڈر تھا
کہ کہیں بلی
نہ کھا جائے ،
اس لئے میں نے
کھا لیا ۔ اسی طرح طلبہ
کو پہیلی کے
متعلق بتایا
جائے
کہ پہیلی ایسے
سوال کو کہا
جاتا ہے جس کا
جواب اشاروں
کے ذریعے
پہلے ہی سوال
میں بتا دیا
جاتا ہے ۔ بچوں کو
کوئی چھوٹی سی
پہیلی
سنائیں اور
انھیں
بوجھنے کے
لئےکہا
جائے۔جیسا
کہ اک ڈبے میں
میٹھے دانے جب کھولا
تو پڑے
چبانےطلبہ
کو بتائیں کہ
اس پہیلی میں
انار کے بارے
میں پوچھا گیا
ہے۔ |
||||
سرگرمی 1 |
||||
اساتذہ طلبہ
کےدوگروپس بنوائیں
فلیش کارڈزپرلکھی
ہوئی پہیلیاں
بچوں کو سنائیں۔پہلے
ایک گروپ سے
کہا جائے کہ
وہ مل کر پہیلی
بوجھیں۔بچوں
کو سوچنے کے
لئے مناسب
وقت دیں ۔ اگر
بچوں کو جواب
بوجھنے میں
مشکل پیش آئے
تو انہیں مزید
اشارات دیےجائیں۔اسی
طرح بعد میں دوسرے گروپ کو پہیلی
سنا کر
بوجھنے کا
کہا جائے ۔
اگر کوئی
گروپ پہیلی
نہ بوجھ سکے
تو وہی پہیلی
دوسرے گروپ
سے پوچھی
جائے اس طرح
مسابقتی عمل
کے ذریعے
طلبہ کی دل
چسپی کو مزید
بڑھایا جائے
۔ اساتذہ اس
طرح کی مزید
پہیلیاں
بچوں کو سنائیں
اور انھیں
بوجھنے کے
لئے کہیں ۔
درست جواب دینے
پر طلبہ کی حوصلہ
افزائی کی
جائے۔
طلبہ سے کہیں
کہ اگر انھیں
کوئی اورپہیلیاں
آتی ہوں تو وہ
کلاس میں
دوسرے طلبہ
سے پوچھیں ۔ جوابات:۱۔آئینہ
۲۔ریت کے ذرے ۳۔
سورج
۴۔ کرسی یا میز |
||||
سرگرمی 2 |
||||
اساتذہ
طلبہ کو ایسے
لطائف سنائیں
جن کو طلبہ
جوڑیوں کی
شکل میں کلاس
کے سامنے پیش
کر سکیں اس
طرح بچے پوری
توجہ اور
دلچسپی سے
تدریسی عمل میں
شامل ہوں گے ۔
ایسے لطائف
منتخب کئے
جائیں جو
طلبہ کے
ذہنی معیار
سے مطابقت
رکھتے ہوں تا کہ بچے
زیادہ سے زیادہ
لطف اندوز ہو
سکیں ۔ پیشکش کے
دوران طلبہ کی
بھرپور
حوصلہ افزائی
کی جائے اور
جہاں مدد یا
رہنمائی کیےضرورت
ہو طلبہ کی
مدد کی جائے ۔
ذیل میں دیےگئے
لطائف نمونے
کے طور پر پیش کیےجا
رہے ہیں ۔
طلبہ سے کہیں
کہ اگر انہیں
اور لطائف
آتے ہوں تو وہ
ساتھی طلبہ
کو سنائیں |
||||
سرگرمی 3 |
||||
|
||||
اختتام |
||||
ختتام پر
طلبہ کوبتایا جائے کہ
آج ہم نے
لطائف اور پہیلیوں
کے متعلق پڑھا
ہے۔ کیا
وہ پہیلیوں
اور لطائف کو
سن کر ان میں
فرق کر سکتے ہیں؟اگر
بچوں کا کوئی
سوال ہو تو اس
کا جواب دیا
جائے۔ |
||||
جانچ |
||||
طلبہ سے
پوچھا جائے
کہ انہیں یا
لطائف سن کر کیسا
لگا؟ بچوں کو
کوئی پہیلی
سنائیں اور
انھیں
بوجھنے کےلیےکہیں
۔ اگر طلبہ کو
کوئی مشکل پیش
آئے تو اشارات
کے ذریعے
ان کی مدد کی
جائے ۔ درست
جواب دینے پر
طلبہ کی
حوصلہ افزائی
کریں |
||||
گھر کا
کام |
||||
طلبہ سے
کہا جائے کہ
وہ گھر سے چند
نئی پہیلیاں
خود سے سوچیں
اور بہن بھائیوں
سے ان کے
جوابات پوچھیں
نیز کلاس میں
سنانے کے لئے
چند لطائف بھی یاد
کر کے آئیں ۔ |
No comments:
Post a Comment
Your Valued Comments Help us to improve our site. Thanks